تاریخ کی سب سے پراسرار اور حیرت انگیز حکمرانوں میں
ملکہ بلقیس کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے، جن کا ذکر
قرآن میں بھی ملتا ہے۔ روایات کے مطابق وہ حضرت سلیمانؑ
کے عہد کی ایک عظیم ملکہ تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی
سلطنت عرب کے علاقوں سے نکل کر افریقہ تک پھیلی ہوئی
تھی۔ ان کی شخصیت کے بارے میں کئی ایسی باتیں بیان کی
جاتی ہیں جو عقل کو دنگ کر دیتی ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ بھی
عقیدہ تھا کہ وہ مکمل انسان نہیں بلکہ آدھی انسان اور آدھی
جن تھیں۔ اسی تناظر میں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا
حضرت سلیمانؑ کو جنات پر بھی اختیار حاصل تھا؟
YouTube Video
لیکن یہ داستان کسی ملکہ سے نہیں بلکہ ایک ننھے سے پرندے ہدہد سے شروع ہوتی ہے۔ ہدہد کوئی عام پرندہ نہیں تھا بلکہ وہ انسانوں کی گفتگو سمجھنے اور دور دراز علاقوں کی خبریں لانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہی پرندہ بعد میں ایک ایسی قوم کی ہدایت کا سبب بنا جو اس وقت سورج کو سجدہ کیا کرتی تھی۔ اگر آپ تیار ہیں تو آئیے اس حیران کن واقعے کا آغاز کرتے ہیں۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے نبی کو بہترین قصے سناتے ہیں، جو وحی کے ذریعے نازل کیے گئے، حالانکہ اس سے پہلے آپ ان واقعات سے واقف نہ تھے۔ اسی دور میں حضرت سلیمانؑ کی فوج مکمل طور پر تیار تھی اور اپنے عظیم قائد کا انتظار کر رہی تھی۔ یہ تاریخ کی سب سے انوکھی فوج تھی، جس میں انسان، جنات، پرندے اور جانور سب شامل تھے، حتیٰ کہ ہوا بھی ان کے حکم کے تابع تھی۔
انسانی لشکر میں پیدل سپاہی اور گھڑ سوار شامل تھے، جبکہ جنات کی فوج عام آنکھ سے نظر نہیں آتی تھی، جو دشمن کے لیے انتہائی خوف کا باعث تھی۔ پرندوں میں باز، شاہین اور ہدہد شامل تھے، اور ہدہد کا خاص کام جاسوسی تھا۔ وہ میلوں دور پرواز کر کے دشمن کی خبریں لاتا اور فوج کو باخبر کرتا۔
ایک دن معلوم ہوا کہ ہدہد غیر حاضر ہے۔ جب حضرت سلیمانؑ تشریف لائے تو انہوں نے بھی اس کی غیر موجودگی محسوس کی۔ حقیقت یہ تھی کہ ہدہد اس وقت سبا کی ملکہ کی سرزمین پر موجود تھا۔ وہ ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر طے کر کے وہاں پہنچا تھا، اور اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ ایک نہایت اہم خبر کے قریب ہے۔
شہر کے اوپر پرواز کرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ لوگ کسی بڑی تقریب کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اس نے وہاں موجود ایک اور ہدہد سے پوچھا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ جواب ملا کہ لوگ ملکۂ سبا سے ملنے جا رہے ہیں، جہاں سب سورج کو سجدہ کریں گے۔ یہ سن کر ہدہد کو یقین ہو گیا کہ اس کا شک درست تھا۔
اس نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ملکہ محل سے باہر آئی، ہاتھ اٹھا کر سورج کو سجدہ کیا، اور اس کے ساتھ پوری قوم جھک گئی۔ یہ منظر دیکھ کر ہدہد فوراً حضرت سلیمانؑ کی طرف لوٹنے کے لیے روانہ ہو گیا تاکہ یہ خبر پہنچا سکے۔
کئی دنوں کی طویل پرواز کے بعد وہ لشکر تک پہنچا، جہاں سب پرندوں نے اسے گھیر لیا۔ اسے بتایا گیا کہ اس کی غیر حاضری پر حضرت سلیمانؑ ناراض ہیں۔ ہدہد خوف زدہ حالت میں ان کے خیمے کی طرف بڑھا۔ اس وقت نبی کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ہدہد خاموشی سے اندر داخل ہوا، نظریں جھکائے سلام کیا اور اجازت پا کر بولنا شروع کیا۔
اس نے سچائی اور ادب کے ساتھ کہا: “اے میرے آقا! میں ایک دور دراز ملک کی ایسی خبر لایا ہوں جس سے آپ ابھی واقف نہیں۔ میں نے دیکھا کہ سبا میں ایک عورت اپنی قوم پر حکومت کرتی ہے، اس کے پاس عظیم تخت ہے اور وہ ہر اس نعمت کی مالک ہے جو کسی بادشاہ کو حاصل ہو سکتی ہے۔”
حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ اس خبر کی تحقیق ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک خط لکھا اور ہدہد کو حکم دیا کہ وہ اسے لے جا کر دیکھے کہ وہاں کے لوگ کیا ردِعمل دیتے ہیں۔ ہدہد خط لے کر تیزی سے سبا پہنچا، کھڑکی کے راستے محل میں داخل ہوا اور پردے کے پیچھے چھپ گیا۔
اس نے دیکھا کہ ملکہ اپنے بستر پر سو رہی تھی، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کا چہرہ غیر معمولی حسن کا حامل تھا۔ ہدہد نے سوچا کہ اگر حضرت سلیمانؑ کی فوج اس قوم سے مقابلہ کرے تو نتیجہ واضح ہے۔ ملکہ طاقتور ضرور ہے، مگر نبی کی فوج کے سامنے اس کی قوم زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم اپنے نبی کو بہترین قصے سناتے ہیں، جو وحی کے ذریعے نازل کیے گئے، حالانکہ اس سے پہلے آپ ان واقعات سے واقف نہ تھے۔ اسی دور میں حضرت سلیمانؑ کی فوج مکمل طور پر تیار تھی اور اپنے عظیم قائد کا انتظار کر رہی تھی۔ یہ تاریخ کی سب سے انوکھی فوج تھی، جس میں انسان، جنات، پرندے اور جانور سب شامل تھے، حتیٰ کہ ہوا بھی ان کے حکم کے تابع تھی۔
انسانی لشکر میں پیدل سپاہی اور گھڑ سوار شامل تھے، جبکہ جنات کی فوج عام آنکھ سے نظر نہیں آتی تھی، جو دشمن کے لیے انتہائی خوف کا باعث تھی۔ پرندوں میں باز، شاہین اور ہدہد شامل تھے، اور ہدہد کا خاص کام جاسوسی تھا۔ وہ میلوں دور پرواز کر کے دشمن کی خبریں لاتا اور فوج کو باخبر کرتا۔
ایک دن معلوم ہوا کہ ہدہد غیر حاضر ہے۔ جب حضرت سلیمانؑ تشریف لائے تو انہوں نے بھی اس کی غیر موجودگی محسوس کی۔ حقیقت یہ تھی کہ ہدہد اس وقت سبا کی ملکہ کی سرزمین پر موجود تھا۔ وہ ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر طے کر کے وہاں پہنچا تھا، اور اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ ایک نہایت اہم خبر کے قریب ہے۔
شہر کے اوپر پرواز کرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ لوگ کسی بڑی تقریب کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اس نے وہاں موجود ایک اور ہدہد سے پوچھا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ جواب ملا کہ لوگ ملکۂ سبا سے ملنے جا رہے ہیں، جہاں سب سورج کو سجدہ کریں گے۔ یہ سن کر ہدہد کو یقین ہو گیا کہ اس کا شک درست تھا۔
اس نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ملکہ محل سے باہر آئی، ہاتھ اٹھا کر سورج کو سجدہ کیا، اور اس کے ساتھ پوری قوم جھک گئی۔ یہ منظر دیکھ کر ہدہد فوراً حضرت سلیمانؑ کی طرف لوٹنے کے لیے روانہ ہو گیا تاکہ یہ خبر پہنچا سکے۔
کئی دنوں کی طویل پرواز کے بعد وہ لشکر تک پہنچا، جہاں سب پرندوں نے اسے گھیر لیا۔ اسے بتایا گیا کہ اس کی غیر حاضری پر حضرت سلیمانؑ ناراض ہیں۔ ہدہد خوف زدہ حالت میں ان کے خیمے کی طرف بڑھا۔ اس وقت نبی کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ہدہد خاموشی سے اندر داخل ہوا، نظریں جھکائے سلام کیا اور اجازت پا کر بولنا شروع کیا۔
اس نے سچائی اور ادب کے ساتھ کہا: “اے میرے آقا! میں ایک دور دراز ملک کی ایسی خبر لایا ہوں جس سے آپ ابھی واقف نہیں۔ میں نے دیکھا کہ سبا میں ایک عورت اپنی قوم پر حکومت کرتی ہے، اس کے پاس عظیم تخت ہے اور وہ ہر اس نعمت کی مالک ہے جو کسی بادشاہ کو حاصل ہو سکتی ہے۔”
حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ اس خبر کی تحقیق ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک خط لکھا اور ہدہد کو حکم دیا کہ وہ اسے لے جا کر دیکھے کہ وہاں کے لوگ کیا ردِعمل دیتے ہیں۔ ہدہد خط لے کر تیزی سے سبا پہنچا، کھڑکی کے راستے محل میں داخل ہوا اور پردے کے پیچھے چھپ گیا۔
اس نے دیکھا کہ ملکہ اپنے بستر پر سو رہی تھی، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کا چہرہ غیر معمولی حسن کا حامل تھا۔ ہدہد نے سوچا کہ اگر حضرت سلیمانؑ کی فوج اس قوم سے مقابلہ کرے تو نتیجہ واضح ہے۔ ملکہ طاقتور ضرور ہے، مگر نبی کی فوج کے سامنے اس کی قوم زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکے گی۔
ہدہد یہ سوچ ہی رہا تھا کہ خط فوراً گرا دے یا ملکہ کے پوری طرح جاگنے کا انتظار کرے، کہ اچانک ملکہ نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کی نظر اپنے سامنے رکھے خط پر پڑی تو وہ چونک اٹھی۔ گھبرا کر اس نے ادھر اُدھر دیکھا، مگر کمرے میں کوئی موجود نہ تھا۔ حیرانی کے عالم میں اس نے خط اٹھایا اور خاموشی سے پڑھنا شروع کیا۔ یہ پیغام حضرت سلیمانؑ کی جانب سے تھا، جو اللہ کے نام سے شروع ہوتا تھا، جو نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ خط پڑھتے ہی ملکہ کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں ہو گئے۔ اس نے فوراً محافظوں کو طلب کیا اور سخت لہجے میں پوچھا کہ میرے کمرے میں داخل ہونے کی جرأت کس نے کی؟ یہ خط یہاں کون لایا؟ محافظ حیرت زدہ رہ گئے۔ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ کسی نے بھی کمرے میں قدم نہیں رکھا اور وہ پوری طرح چوکس تھے۔
اسی دوران ہدہد ایک چھوٹے سے سوراخ میں چھپا ساری گفتگو سن رہا تھا۔ ملکہ بلقیس نے خط ہاتھ میں لہرا کر دوبارہ سوال کیا کہ یہ خط آیا کہاں سے؟ محافظوں نے اندازے لگانے کی کوشش کی، مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ معاملہ سب کے لیے الجھن بن چکا تھا۔ چنانچہ ملکہ نے فوراً اپنے وزیروں اور مشیروں کی ایک اہم مجلس طلب کر لی۔
اجلاس میں ملکہ بلقیس نے کہا: “اے میرے مشیرو! مجھے ایک نہایت اہم خط ملا ہے جو سلیمان کی طرف سے آیا ہے۔ وہ اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ غرور کے بغیر اس کے سامنے حاضر ہو جاؤں۔ تم لوگ کیا رائے دیتے ہو؟ ہمیں کیا قدم اٹھانا چاہیے؟” ایک مشیر نے کہا کہ اس کا مطلب صاف ہے، وہ ہمیں زیرِ نگیں کرنا چاہتا ہے، یہ تو گویا جنگ کی دعوت ہے۔ دوسرے نے کہا کہ ہم طاقتور ہیں، ہمیں اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اکثر مشیروں نے جنگ کے حق میں رائے دی۔
مگر ایک دانا مشیر نے ایک اہم نکتہ اٹھایا۔ اس نے پوچھا کہ وہ قاصد کہاں ہے جو یہ خط لایا؟ اگر وہ مل جائے تو ہمیں سلیمان کی اصل نیت سمجھ آ سکتی ہے۔ ملکہ نے بتایا کہ وہ نہیں جانتی، جب وہ بیدار ہوئی تو خط اپنے بستر پر موجود تھا۔ یہ بات سن کر مشیر نے کہا کہ یہ معاملہ تشویش ناک ہے۔ اگر سلیمان بغیر کسی قاصد کے اس طرح خط پہنچا سکتا ہے تو سوچیں، جنگ میں اس کی طاقت کتنی ہو گی۔ اس لیے بہتر ہے کہ جلد بازی نہ کی جائے۔
ملکہ بلقیس نے کہا کہ جب بادشاہ کسی ملک پر حملہ کرتے ہیں تو سب کچھ تہس نہس کر دیتے ہیں اور باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ہمارے ساتھ بھی یہی نہ ہو۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ ہم تحائف بھیج کر اس کا ردِعمل دیکھیں۔ اس رائے سے کسی نے اختلاف نہ کیا اور یہی فیصلہ طے پا گیا۔ ہدہد نے یہ ساری گفتگو سن لی اور اجلاس ختم ہوتے ہی فوراً اڑ گیا۔
ملکہ کی سلطنت میں اعلان کر دیا گیا کہ تحفہ سونے اور قیمتی جواہرات سے تیار کیا جائے گا، اور اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی جائے گی۔ کاریگر دن رات کام میں جُت گئے۔ آخرکار ایک شاندار تحفہ تیار ہوا: سونے کی ایک تھالی، جس کے کناروں پر سونے اور جواہرات سے بنی دو خوبصورت مورتیوں کی نقش کاری تھی۔ ملکہ بلقیس نے جب یہ قیمتی تحفہ دیکھا تو مطمئن ہو گئی۔ اس نے قاصد کو تیار کیا اور ساتھ ہی فوج کے ایک کمانڈر کو بھی روانہ کیا، تاکہ وہ سلیمان کی فوج کی طاقت کا اندازہ لگا سکے۔
ادھر حضرت سلیمانؑ کو ہدہد کے ذریعے پہلے ہی ملکہ کی مجلس اور فیصلے کی خبر مل چکی تھی۔ ہدہد سرحد کے قریب تحائف لے جانے والے قافلے کو دیکھ چکا تھا اور فوراً اطلاع دینے پہنچ گیا۔ حضرت سلیمانؑ سمجھ گئے کہ تحائف کے پیچھے اصل مقصد ان کی نیت اور فوجی طاقت کو پرکھنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حکم دیا کہ فوج کو پوری شان و شوکت کے ساتھ تیار کیا جائے اور قاصدوں کے استقبال کے لیے صفیں باندھی جائیں۔ ان کا مقصد واضح تھا: وہ چاہتے تھے کہ ملکہ ان سے ملنے سے پہلے ہی اپنی کمزوری کو پہچان لے۔
جب ملکہ بلقیس کے قاصد آگے بڑھے تو اچانک ایک عظیم الشان اور بے مثال لشکر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ انہوں نے سپاہیوں کی تعداد اور فوج کی ہیبت دیکھنی شروع کی، اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ یہ طاقت کسی عام بادشاہ کی نہیں۔
اسی دوران ہدہد ایک چھوٹے سے سوراخ میں چھپا ساری گفتگو سن رہا تھا۔ ملکہ بلقیس نے خط ہاتھ میں لہرا کر دوبارہ سوال کیا کہ یہ خط آیا کہاں سے؟ محافظوں نے اندازے لگانے کی کوشش کی، مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ معاملہ سب کے لیے الجھن بن چکا تھا۔ چنانچہ ملکہ نے فوراً اپنے وزیروں اور مشیروں کی ایک اہم مجلس طلب کر لی۔
اجلاس میں ملکہ بلقیس نے کہا: “اے میرے مشیرو! مجھے ایک نہایت اہم خط ملا ہے جو سلیمان کی طرف سے آیا ہے۔ وہ اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ غرور کے بغیر اس کے سامنے حاضر ہو جاؤں۔ تم لوگ کیا رائے دیتے ہو؟ ہمیں کیا قدم اٹھانا چاہیے؟” ایک مشیر نے کہا کہ اس کا مطلب صاف ہے، وہ ہمیں زیرِ نگیں کرنا چاہتا ہے، یہ تو گویا جنگ کی دعوت ہے۔ دوسرے نے کہا کہ ہم طاقتور ہیں، ہمیں اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اکثر مشیروں نے جنگ کے حق میں رائے دی۔
مگر ایک دانا مشیر نے ایک اہم نکتہ اٹھایا۔ اس نے پوچھا کہ وہ قاصد کہاں ہے جو یہ خط لایا؟ اگر وہ مل جائے تو ہمیں سلیمان کی اصل نیت سمجھ آ سکتی ہے۔ ملکہ نے بتایا کہ وہ نہیں جانتی، جب وہ بیدار ہوئی تو خط اپنے بستر پر موجود تھا۔ یہ بات سن کر مشیر نے کہا کہ یہ معاملہ تشویش ناک ہے۔ اگر سلیمان بغیر کسی قاصد کے اس طرح خط پہنچا سکتا ہے تو سوچیں، جنگ میں اس کی طاقت کتنی ہو گی۔ اس لیے بہتر ہے کہ جلد بازی نہ کی جائے۔
ملکہ بلقیس نے کہا کہ جب بادشاہ کسی ملک پر حملہ کرتے ہیں تو سب کچھ تہس نہس کر دیتے ہیں اور باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ہمارے ساتھ بھی یہی نہ ہو۔ اس لیے میرا مشورہ ہے کہ ہم تحائف بھیج کر اس کا ردِعمل دیکھیں۔ اس رائے سے کسی نے اختلاف نہ کیا اور یہی فیصلہ طے پا گیا۔ ہدہد نے یہ ساری گفتگو سن لی اور اجلاس ختم ہوتے ہی فوراً اڑ گیا۔
ملکہ کی سلطنت میں اعلان کر دیا گیا کہ تحفہ سونے اور قیمتی جواہرات سے تیار کیا جائے گا، اور اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی جائے گی۔ کاریگر دن رات کام میں جُت گئے۔ آخرکار ایک شاندار تحفہ تیار ہوا: سونے کی ایک تھالی، جس کے کناروں پر سونے اور جواہرات سے بنی دو خوبصورت مورتیوں کی نقش کاری تھی۔ ملکہ بلقیس نے جب یہ قیمتی تحفہ دیکھا تو مطمئن ہو گئی۔ اس نے قاصد کو تیار کیا اور ساتھ ہی فوج کے ایک کمانڈر کو بھی روانہ کیا، تاکہ وہ سلیمان کی فوج کی طاقت کا اندازہ لگا سکے۔
ادھر حضرت سلیمانؑ کو ہدہد کے ذریعے پہلے ہی ملکہ کی مجلس اور فیصلے کی خبر مل چکی تھی۔ ہدہد سرحد کے قریب تحائف لے جانے والے قافلے کو دیکھ چکا تھا اور فوراً اطلاع دینے پہنچ گیا۔ حضرت سلیمانؑ سمجھ گئے کہ تحائف کے پیچھے اصل مقصد ان کی نیت اور فوجی طاقت کو پرکھنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حکم دیا کہ فوج کو پوری شان و شوکت کے ساتھ تیار کیا جائے اور قاصدوں کے استقبال کے لیے صفیں باندھی جائیں۔ ان کا مقصد واضح تھا: وہ چاہتے تھے کہ ملکہ ان سے ملنے سے پہلے ہی اپنی کمزوری کو پہچان لے۔
جب ملکہ بلقیس کے قاصد آگے بڑھے تو اچانک ایک عظیم الشان اور بے مثال لشکر ان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ انہوں نے سپاہیوں کی تعداد اور فوج کی ہیبت دیکھنی شروع کی، اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ یہ طاقت کسی عام بادشاہ کی نہیں۔
قاصدوں کی حیرت اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گئی جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت سلیمانؑ کی فوج میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ شیر، درندے، ہاتھی، پرندے اور دیگر جانور بھی شامل ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر تعجب کی بات یہ تھی کہ یہ لشکر ہوا کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتا تھا۔ ان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ ایسی شان دار اور ہیبت ناک فوج انہوں نے زندگی میں کبھی نہ دیکھی تھی۔ انہیں صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ اس طاقت کا مقابلہ ہرگز نہیں کر سکتے۔
جب انہوں نے دیکھا کہ کچھ ہتھیار خودبخود حرکت کر رہے ہیں تو ان کے دل مزید دہل گئے۔ گھبرا کر انہوں نے ساتھ موجود افسر سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ افسر نے اطمینان سے جواب دیا کہ یہ تو جن سپاہیوں کا ایک چھوٹا سا دستہ ہے جو روزانہ کی مشق میں مصروف ہے۔ یہ سن کر قاصدوں کی بے چینی اور خوف مزید بڑھ گیا، اور وہ حضرت سلیمانؑ سے فوراً ملاقات کے خواہش مند ہو گئے۔ مگر نبیؑ نے براہِ راست ملاقات سے انکار کر دیا اور ان کی طرف اپنے ایک کمانڈر کو بھیج دیا۔
قاصدوں کو دوپہر کے کھانے کے لیے محل میں مدعو کیا گیا۔ اردگرد کی شان و شوکت دیکھ کر انہیں اپنے لائے ہوئے تحائف نہایت معمولی محسوس ہونے لگے، مگر پھر بھی وہ جھجکتے ہوئے تحائف پیش کرنے پہنچے۔ افسر تحائف لے کر اندر گیا، لیکن چند لمحوں بعد انہیں واپس لے آیا اور بتایا کہ حضرت سلیمانؑ نے یہ تحفے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پھر اس نے نبیؑ کا پیغام سنایا:
“کیا تم مجھے مال و دولت سے خوش کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا کیا ہے وہ تمہارے تحائف سے کہیں بہتر ہے۔ اپنے تحفے واپس لے جاؤ۔ اگر میں اپنی فوج لے کر آیا تو ایسی طاقت دکھاؤں گا جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے، اور تمہیں تمہارے شہروں سے ذلیل کر کے نکال دوں گا۔”
قاصد یہ سن کر کانپ اٹھے۔ انہوں نے صاف الفاظ میں پوچھا کہ آخر سلیمانؑ چاہتے کیا ہیں؟ جواب ملا کہ ان کی صرف ایک ہی خواہش ہے: ملکہ اور اس کی قوم اللہ کے آگے جھک جائے۔ ادھر حضرت سلیمانؑ اندرونی طور پر سخت رنجیدہ تھے، مگر غصہ ظاہر نہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ افسوسناک ہے کہ توحید کا پیغام موجود ہونے کے باوجود لوگ سورج کی عبادت کر رہے ہیں۔
فوج کے ایک سالار نے جوش میں آ کر عرض کیا کہ حکم دیں تو وہ سبا کی سلطنت کو نیست و نابود کر دے، مگر حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ وہ خونریزی پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے چاہا کہ کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے۔ اسی لمحے انہوں نے سوال کیا کہ ملکہ کے آنے سے پہلے کون اس کا تخت یہاں لا سکتا ہے۔ ایک طاقتور جن نے کہا کہ وہ یہ کام کر سکتا ہے، مگر پھر ایک صاحبِ علم شخص، جسے اللہ نے خاص علم عطا کیا تھا، بولا کہ وہ پلک جھپکنے سے پہلے تخت حاضر کر سکتا ہے۔ جیسے ہی اجازت ملی، تخت فوراً سامنے آ گیا۔ سب دنگ رہ گئے۔
ادھر سبا میں ملکہ اور اس کی مشاورتی کونسل جمع تھی۔ ملکہ بلقیس نے کہا کہ وہ ایک نازک دور سے گزر رہے ہیں اور سلیمانؑ کی طاقت ان کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ آخرکار فیصلہ ہوا کہ تحائف بھیج کر آخری بار حالات کو پرکھا جائے۔ حضرت سلیمانؑ جانتے تھے کہ ملکہ اپنی ترقی اور شان پر ناز کرتی ہے، اس لیے وہ اسے یہ سکھانا چاہتے تھے کہ اصل عظمت اللہ کے قریب ہونے میں ہے، نہ کہ دنیاوی طاقت میں۔
اسی مقصد کے تحت انہوں نے نہ صرف تخت منگوایا بلکہ اس میں تبدیلیاں بھی کروائیں۔ سورج کے نشان کو دیکھ کر فرمایا کہ سورج چاہے سونے کا ہی کیوں نہ ہو، اس کی عبادت سراسر نادانی ہے۔ پھر انہوں نے شفاف شیشے کا ایسا محل تعمیر کروایا جس کا فرش پانی پر بنا ہوا محسوس ہوتا تھا تاکہ حقیقت اور فریب کے فرق کو نمایاں کیا جا سکے۔
جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمانؑ کی سرزمین کے قریب پہنچی تو اس نے ایسے مناظر دیکھے جو اس کی سوچ سے باہر تھے۔ انسانوں، جانوروں اور جنات پر مشتمل یہ ریاست کسی عام طاقت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اللہ کی عطا کردہ قوتوں کا مظہر تھی۔ شہر میں داخل ہوتے ہی اس کا غرور پگھلنے لگا اور خوف احترام میں بدل گیا۔
شیشے کے فرش پر چلتے ہوئے ملکہ کو یوں محسوس ہوا جیسے پانی ہو، تو اس نے کپڑے سمیٹ لیے۔ اسی لمحے حقیقت سب پر واضح ہو گئی کہ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کے بارے میں پھیلی افواہیں بے بنیاد تھیں۔ تخت دیکھ کر وہ حیران رہ گئی، کیونکہ وہ اس کا ہی تھا مگر بدلا ہوا۔ اس پر لکھا پیغام اسے حقیقت کی طرف لے آیا۔
حضرت سلیمانؑ نے اسے سمجھایا کہ سورج، پرندے، درخت اور کائنات کی ہر چیز اللہ کے حکم کی تابع ہے، تو پھر انسان کیوں سورج کے آگے جھکے؟ یہ شیطان کا فریب ہے۔ اسی لمحے ملکہ کے دل میں ہدایت کی روشنی اتر آئی۔ اس نے سچ قبول کیا، ایمان لے آئی اور اس کی قوم بھی اسلام میں داخل ہو گئی۔ یوں ایک پوری قوم ہدایت پا گئی، اور یہ سب ایک ننھے سے ہدہد پرندے کی بصیرت کا نتیجہ تھا۔
بعد ازاں ملکہ نے حضرت سلیمانؑ میں ایسی عاجزی، حلم اور نورانیت دیکھی جو اس نے کسی بادشاہ میں کبھی نہ دیکھی تھی۔ اتنی عظیم سلطنت کے باوجود ان کے دل میں تکبر کا شائبہ تک نہ تھا۔ انہوں نے ہر کامیابی کو اللہ کی رحمت قرار دیا۔ یہی وہ سبق تھا جو تاریخ نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔
جب انہوں نے دیکھا کہ کچھ ہتھیار خودبخود حرکت کر رہے ہیں تو ان کے دل مزید دہل گئے۔ گھبرا کر انہوں نے ساتھ موجود افسر سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ افسر نے اطمینان سے جواب دیا کہ یہ تو جن سپاہیوں کا ایک چھوٹا سا دستہ ہے جو روزانہ کی مشق میں مصروف ہے۔ یہ سن کر قاصدوں کی بے چینی اور خوف مزید بڑھ گیا، اور وہ حضرت سلیمانؑ سے فوراً ملاقات کے خواہش مند ہو گئے۔ مگر نبیؑ نے براہِ راست ملاقات سے انکار کر دیا اور ان کی طرف اپنے ایک کمانڈر کو بھیج دیا۔
قاصدوں کو دوپہر کے کھانے کے لیے محل میں مدعو کیا گیا۔ اردگرد کی شان و شوکت دیکھ کر انہیں اپنے لائے ہوئے تحائف نہایت معمولی محسوس ہونے لگے، مگر پھر بھی وہ جھجکتے ہوئے تحائف پیش کرنے پہنچے۔ افسر تحائف لے کر اندر گیا، لیکن چند لمحوں بعد انہیں واپس لے آیا اور بتایا کہ حضرت سلیمانؑ نے یہ تحفے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ پھر اس نے نبیؑ کا پیغام سنایا:
“کیا تم مجھے مال و دولت سے خوش کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ اللہ نے مجھے عطا کیا ہے وہ تمہارے تحائف سے کہیں بہتر ہے۔ اپنے تحفے واپس لے جاؤ۔ اگر میں اپنی فوج لے کر آیا تو ایسی طاقت دکھاؤں گا جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے، اور تمہیں تمہارے شہروں سے ذلیل کر کے نکال دوں گا۔”
قاصد یہ سن کر کانپ اٹھے۔ انہوں نے صاف الفاظ میں پوچھا کہ آخر سلیمانؑ چاہتے کیا ہیں؟ جواب ملا کہ ان کی صرف ایک ہی خواہش ہے: ملکہ اور اس کی قوم اللہ کے آگے جھک جائے۔ ادھر حضرت سلیمانؑ اندرونی طور پر سخت رنجیدہ تھے، مگر غصہ ظاہر نہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ افسوسناک ہے کہ توحید کا پیغام موجود ہونے کے باوجود لوگ سورج کی عبادت کر رہے ہیں۔
فوج کے ایک سالار نے جوش میں آ کر عرض کیا کہ حکم دیں تو وہ سبا کی سلطنت کو نیست و نابود کر دے، مگر حضرت سلیمانؑ نے فرمایا کہ وہ خونریزی پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے چاہا کہ کوئی اور راستہ اختیار کیا جائے۔ اسی لمحے انہوں نے سوال کیا کہ ملکہ کے آنے سے پہلے کون اس کا تخت یہاں لا سکتا ہے۔ ایک طاقتور جن نے کہا کہ وہ یہ کام کر سکتا ہے، مگر پھر ایک صاحبِ علم شخص، جسے اللہ نے خاص علم عطا کیا تھا، بولا کہ وہ پلک جھپکنے سے پہلے تخت حاضر کر سکتا ہے۔ جیسے ہی اجازت ملی، تخت فوراً سامنے آ گیا۔ سب دنگ رہ گئے۔
ادھر سبا میں ملکہ اور اس کی مشاورتی کونسل جمع تھی۔ ملکہ بلقیس نے کہا کہ وہ ایک نازک دور سے گزر رہے ہیں اور سلیمانؑ کی طاقت ان کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ آخرکار فیصلہ ہوا کہ تحائف بھیج کر آخری بار حالات کو پرکھا جائے۔ حضرت سلیمانؑ جانتے تھے کہ ملکہ اپنی ترقی اور شان پر ناز کرتی ہے، اس لیے وہ اسے یہ سکھانا چاہتے تھے کہ اصل عظمت اللہ کے قریب ہونے میں ہے، نہ کہ دنیاوی طاقت میں۔
اسی مقصد کے تحت انہوں نے نہ صرف تخت منگوایا بلکہ اس میں تبدیلیاں بھی کروائیں۔ سورج کے نشان کو دیکھ کر فرمایا کہ سورج چاہے سونے کا ہی کیوں نہ ہو، اس کی عبادت سراسر نادانی ہے۔ پھر انہوں نے شفاف شیشے کا ایسا محل تعمیر کروایا جس کا فرش پانی پر بنا ہوا محسوس ہوتا تھا تاکہ حقیقت اور فریب کے فرق کو نمایاں کیا جا سکے۔
جب ملکہ بلقیس حضرت سلیمانؑ کی سرزمین کے قریب پہنچی تو اس نے ایسے مناظر دیکھے جو اس کی سوچ سے باہر تھے۔ انسانوں، جانوروں اور جنات پر مشتمل یہ ریاست کسی عام طاقت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اللہ کی عطا کردہ قوتوں کا مظہر تھی۔ شہر میں داخل ہوتے ہی اس کا غرور پگھلنے لگا اور خوف احترام میں بدل گیا۔
شیشے کے فرش پر چلتے ہوئے ملکہ کو یوں محسوس ہوا جیسے پانی ہو، تو اس نے کپڑے سمیٹ لیے۔ اسی لمحے حقیقت سب پر واضح ہو گئی کہ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کے بارے میں پھیلی افواہیں بے بنیاد تھیں۔ تخت دیکھ کر وہ حیران رہ گئی، کیونکہ وہ اس کا ہی تھا مگر بدلا ہوا۔ اس پر لکھا پیغام اسے حقیقت کی طرف لے آیا۔
حضرت سلیمانؑ نے اسے سمجھایا کہ سورج، پرندے، درخت اور کائنات کی ہر چیز اللہ کے حکم کی تابع ہے، تو پھر انسان کیوں سورج کے آگے جھکے؟ یہ شیطان کا فریب ہے۔ اسی لمحے ملکہ کے دل میں ہدایت کی روشنی اتر آئی۔ اس نے سچ قبول کیا، ایمان لے آئی اور اس کی قوم بھی اسلام میں داخل ہو گئی۔ یوں ایک پوری قوم ہدایت پا گئی، اور یہ سب ایک ننھے سے ہدہد پرندے کی بصیرت کا نتیجہ تھا۔
بعد ازاں ملکہ نے حضرت سلیمانؑ میں ایسی عاجزی، حلم اور نورانیت دیکھی جو اس نے کسی بادشاہ میں کبھی نہ دیکھی تھی۔ اتنی عظیم سلطنت کے باوجود ان کے دل میں تکبر کا شائبہ تک نہ تھا۔ انہوں نے ہر کامیابی کو اللہ کی رحمت قرار دیا۔ یہی وہ سبق تھا جو تاریخ نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا۔
کبھی کوئی لمحوں میں سمندر کی تہہ سے نایاب چیزیں نکال لاتا اور کبھی کوئی پل بھر میں ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر لیتا۔ ملکہ بلقیس ہر منظر دیکھ کر حیرت میں ڈوب جاتی، اور اس کا یقین مزید پختہ ہوتا چلا جاتا کہ یہ سب انسان یا جنات کی طاقت نہیں بلکہ صرف اللہ کی قدرت کا مظہر ہے۔ ایک دن حضرت سلیمانؑ ملکہ کو اپنے محل کے ایک نہایت رازدار حصے میں لے گئے اور فرمایا کہ اصل طاقت نہ فوج میں ہے، نہ جنات میں، بلکہ ایمان اور دعا میں ہے۔ جو شخص اللہ کے قریب ہو جاتا ہے، دنیا خود اس کے تابع ہو جاتی ہے، اور جو اللہ سے دور ہو جائے، وہ ساری دنیا پا کر بھی کمزور ہی رہتا ہے۔
یہ باتیں سن کر ملکہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے ساری زندگی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھا، مگر آج مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ اصل بادشاہی صرف اللہ کی ہے۔ اب میرا دل کبھی دنیاوی غرور کی طرف نہیں لوٹے گا۔ اس کے بعد حضرت سلیمانؑ نے اس کی تربیت شروع کی، اسے حکمت، عدل اور انصاف کے اصول سکھائے۔ ملکہ ہر سبق کو دل میں اتارتی چلی گئی۔
جب وہ اپنی سلطنت واپس لوٹی تو وہ پہلے جیسی نہ تھی۔ اس کی آنکھوں میں نور تھا، زبان پر اللہ کا ذکر، حکومت میں عدل اور رعایا کے لیے شفقت تھی۔ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے کہا: میں تمہاری وہی ملکہ ہوں، مگر میرا دل بدل چکا ہے۔ میں نے حق کو پہچان لیا ہے، اور چاہتی ہوں کہ تم بھی اسی نور کو اختیار کرو۔
اس کے بعد سبا کی سرزمین سے ظلم کا خاتمہ ہو گیا، انصاف کی روشنی پھیل گئی، بت پرستی مٹ گئی اور توحید کی آواز بلند ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے ملکہ بلقیس پر خاص رحمت نازل فرمائی اور اس کی حکومت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔ لوگ اس کی عقل، دانائی اور فیصلوں کی مثالیں دینے لگے۔ حضرت سلیمانؑ سے اس کا رشتہ اب صرف بادشاہ اور ملکہ کا نہ رہا، بلکہ استاد اور شاگرد، رہبر اور مومن کا سا بن گیا۔
ان دونوں کی یہ داستان اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب دل سے غرور نکل جائے اور انسان حق کو قبول کر لے تو اللہ اسے وہاں تک پہنچا دیتا ہے جہاں دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی نہیں پہنچ سکتی۔
اگر یہ کہانی آپ کے دل کو چھو گئی ہے تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں، اور ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ ایسی مزید ایمان افروز داستانیں آپ تک پہنچتی رہیں۔
یہ باتیں سن کر ملکہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں نے ساری زندگی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھا، مگر آج مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ اصل بادشاہی صرف اللہ کی ہے۔ اب میرا دل کبھی دنیاوی غرور کی طرف نہیں لوٹے گا۔ اس کے بعد حضرت سلیمانؑ نے اس کی تربیت شروع کی، اسے حکمت، عدل اور انصاف کے اصول سکھائے۔ ملکہ ہر سبق کو دل میں اتارتی چلی گئی۔
جب وہ اپنی سلطنت واپس لوٹی تو وہ پہلے جیسی نہ تھی۔ اس کی آنکھوں میں نور تھا، زبان پر اللہ کا ذکر، حکومت میں عدل اور رعایا کے لیے شفقت تھی۔ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے کہا: میں تمہاری وہی ملکہ ہوں، مگر میرا دل بدل چکا ہے۔ میں نے حق کو پہچان لیا ہے، اور چاہتی ہوں کہ تم بھی اسی نور کو اختیار کرو۔
اس کے بعد سبا کی سرزمین سے ظلم کا خاتمہ ہو گیا، انصاف کی روشنی پھیل گئی، بت پرستی مٹ گئی اور توحید کی آواز بلند ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے ملکہ بلقیس پر خاص رحمت نازل فرمائی اور اس کی حکومت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔ لوگ اس کی عقل، دانائی اور فیصلوں کی مثالیں دینے لگے۔ حضرت سلیمانؑ سے اس کا رشتہ اب صرف بادشاہ اور ملکہ کا نہ رہا، بلکہ استاد اور شاگرد، رہبر اور مومن کا سا بن گیا۔
ان دونوں کی یہ داستان اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب دل سے غرور نکل جائے اور انسان حق کو قبول کر لے تو اللہ اسے وہاں تک پہنچا دیتا ہے جہاں دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی نہیں پہنچ سکتی۔
اگر یہ کہانی آپ کے دل کو چھو گئی ہے تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں، اور ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ ایسی مزید ایمان افروز داستانیں آپ تک پہنچتی رہیں۔
Post a Comment